ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / نوٹیفکیشن کو غلط سمجھاگیا،گوشت کھانے پر نہیں ،جانوروں کے بڑے پیمانے پرفروخت پرپابندی ،کیرل ہائی کورٹ کا مرکزکے فیصلے پرمداخلت سے انکار

نوٹیفکیشن کو غلط سمجھاگیا،گوشت کھانے پر نہیں ،جانوروں کے بڑے پیمانے پرفروخت پرپابندی ،کیرل ہائی کورٹ کا مرکزکے فیصلے پرمداخلت سے انکار

Thu, 01 Jun 2017 11:34:35    S.O. News Service

نئی دہلی،31؍مئی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)مویشیوں کی خرید و فروخت کے سلسلے میں مرکزی حکومت کے نئے نوٹیفکیشن پر کیرالہ ہائی کورٹ نے مداخلت کرنے سے انکارکر دیاہے۔بدھ کو عدالت نے اس مفاد عامہ کی عرضی کو منسوخ کر دیا، جس میں مرکزی حکومت کے فیصلے پر روک لگانے کی مانگ کی تھی۔ہائی کورٹ نے کہا کے مویشیوں کی خرید و فروخت کے سلسلے کے نئے نوٹیفکیشن کو لوگوں نے غلط سمجھ لیاہے۔ہائی کورٹ نے مزید کہا کہ کورٹ نے جائزے میں پتہ چلا ہے کہ مویشیوں کے گوشت کھانے پر کوئی پابندی نہیں ہے، لیکن مرکزی حکومت کا نئے نوٹیفکیشن صرف بڑے بازاروں کے ذریعے جانوروں کے بڑے پیمانے کی فروخت پر روک لگاتاہے۔کیرل ہائی کورٹ نے کورس نئے نوٹیفکیشن پر مداخلت کرنے سے انکار کر دیا ہو، لیکن مدراس ہائی کورٹ نے منگل ایک مفاد عامہ کی عرضی کی سماعت کرتے ہوئے مویشیوں کی خرید و فروخت کے سلسلے میں مرکزی حکومت کے نئے نوٹیفکیشن پر روک لگا دی تھی اور مرکز اور ریاستی حکومت کو 4ہفتوں میں جواب دینے کوکہاتھا۔بتا دیں کہ ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب مرکزی حکومت کے اس فیصلے کو لے کر مخالفت بڑھتی جا رہی ہے۔کیرالہ اور مغربی بنگال کے وزرائے اعلیٰ نے حکومت کے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے کی بات کہتے ہوئے کہا ہے کہ مرکز ریاستوں کے حقوق کی خلاف ورزی کر رہاہے۔مرکزی حکومت کے فیصلے کی مخالفت میں کیرالہ، تمل ناڈو اور کرناٹک میں احتجاج بھی دیکھا۔کیرالہ میں فیصلے کی مخالفت میں یوتھ کانگریس کے کارکنوں نے عوامی طور پر گؤ کا ذبح کر دیا۔اتوار کی شام مرکزی حکومت کے فیصلے کی مخالفت کرنے کیلئےIITمدراس کے کیمپس میں ’’بیف پارٹی‘‘کا انعقاد کیا گیا۔


Share: